آفریدی قبائل روایات کے مطابق دوشمنی دوستی میں تبدیل

25 سالہ خونی دوشمنی آفریدی قبائل روایات ننواتے کے ذریعے ختم، دو خاندان شیر و شکر ہوگئے
آفریدی قبائل کی روایات کے مطابق ننواتے اور جرگے کی کامیاب کوششوں کے نتیجے میں دو خاندانوں کے درمیان 25 سال سے جاری خونی دشمنی کا خاتمہ ہوگیا۔ جرگے میں علاقے کے مشران، عمائدین اور دونوں فریقین کے افراد نے شرکت کی۔
جرگہ ممبران نے فریقین کے درمیان کئی نشستوں اور مذاکرات کے بعد صلح کرائی، جس پر دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے کو معاف کرتے ہوئے تمام رنجشیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ننواتے کی رسم کے دوران فریق اول حکیم خان ملک دین خیل اور فریق دوئم اعجاز آفریدی شلوبر نے جرگے کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر سابق وزیر ماحولیات حمید اللّٰہ جان آفریدی ،جمعیت علماء اسلام کے حضرت خان ،مولانا عبدالوکیل ،قاضی مومین ،پی ٹی آئی ذاہد اللّٰہ آفریدی ، قومی مشر مجیب آفریدی ،قومی مشر صحبت آفریدی اور دیگر علاقائی مشران نے شرکت کی جرگہ ممبران نے کہا کہ قبائلی معاشرے میں جرگہ اور ننواتے کی روایت تنازعات کے پرامن حل کا مؤثر ذریعہ ہے، جس کے ذریعے نہ صرف دشمنیوں کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور امن کو بھی فروغ ملتا ہے۔
علاقے کے مشران نے 25 سالہ خونی دشمنی کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں خاندانوں کے اس فیصلے سے علاقے میں امن و استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے فریقین کے جذبۂ درگزر کو سراہتے ہوئے کہا کہ معافی اور برداشت ہی پائیدار امن کی ضمانت ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top