تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈوگرہ اپگریڈ نہ ہوسکا

خیبر کی باڑہ تحصیل میں قائم تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈوگرہ اس وقت شدید سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ ہسپتال گزشتہ تقریباً 25 سال سے ٹائپ ڈی سے اب تک اسے ٹائپ سی ہسپتال میں اپگریڈ نہیں کیا جا سکا۔
باڑہ تحصیل کی چھ لاکھ سے زائد آبادی کے لیے صرف ایک ٹائپ ڈی ہسپتال کا موجود ہونا عوام کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ ڈوگرہ ہسپتال 25 جیرب زمین پر مشتمل ہے جو کہ ایک ٹیچنگ ہسپتال کے لئے کافی زمین ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ مریضوں کو بہتر علاج کے لیے پشاور منتقل کرنا پڑتا ہے۔
عوامی حلقوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ یہ علاقہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا آبائی حلقہ ہونے کے باوجود صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ وادیِ تیراہ سے نقل مکانی کی وجہ سے بھی ہسپتال پر بوجھ زیادہ ہوچکا ہے اور ان کے ساتھ ضلع کرم اور اورکزئی سے لوگ علاج معالجہ کے لئے ہسپتال کا روخ کرتے ہیں جن کی وجہ سے یہ دس لاکھ ابادی کو طبی سہولیات فراہم کرتا ہے ان کی وجہ سے ہسپتال میں مسائل بڑھ جاتے ہیں اور اپگریڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے ڈوگرہ ہسپتال ٹیچنگ ہسپتال کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر موجودہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے مقامی افراد نے حکومتِ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈوگرہ کو فوری طور پر ٹائپ سی میں اپگریڈ کیا جائے یا ان کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دی جائے، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی پوری کی جائے اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ عوام کو بہتر علاج معالجہ میسر ہوسکے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top