عالمی یومِ نظرانداز شدہ متعدی امراض (NTDs): ایم ایس ایف کی پاکستان میں جلدی لشمانیا کے پائیدار علاج تک رسائی یقینی بنانے کی اپیل
رپورٹ ذاکر آفریدی
عالمی یومِ نظرانداز شدہ متعدی امراض (NTDs) کے موقع پر بین الاقوامی طبی تنظیم میڈیسنز سان فرنٹیئرز / ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (MSF) نے حکومتِ پاکستان، عطیہ دہندگان اور بین الاقوامی شراکت داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں جلدی لشمانیا (Cutaneous Leishmaniasis) کے مؤثر اور اولین علاج میگلومین اینٹی مونی ایٹ کی بلا تعطل اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈنگ، خریداری اور سپلائی سسٹمز کو فوری طور پر مضبوط کریں۔
جلدی لشمانیا پاکستان میں ایک سنگین مگر نظرانداز شدہ عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال اس بیماری کے تقریباً 6 لاکھ سے 10 لاکھ نئے کیسز سامنے آتے ہیں، تاہم صرف تقریباً 2 لاکھ کیسز رپورٹ ہو پاتے ہیں۔ سال 2023 میں رپورٹ ہونے والے کیسز کا 91 فیصد صرف گیارہ ممالک میں سامنے آیا، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، جہاں اندازاً 59,255 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ بیماری کے زیادہ پھیلاؤ کے باوجود بروقت اور مؤثر علاج تک رسائی اب بھی محدود ہے۔
ایم ایس ایف کے پاکستان میں میڈیکل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عبدالوھاب محمد نے کہا:
“میگلومین اینٹی مونی ایٹ جلدی لشمانیا کے خلاف مؤثر ترین علاج میں سے ایک ہے، مگر یہ پاکستان میں تیار نہیں کی جاتی۔ اس کی فراہمی زیادہ تر درآمدات پر منحصر ہے، جو اکثر بے قاعدہ اور ناکافی مقدار میں ہوتی ہیں۔ کووڈ-19 وبا کے بعد سے سپلائی میں رکاوٹیں مزید بڑھ گئی ہیں، جس کے باعث علاج کا تسلسل ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ سرکاری صحت مراکز میں اکثر دوا ختم ہو جاتی ہے اور نئی کھیپ بروقت نہیں پہنچتی، جس سے مریضوں کو علاج میں تاخیر یا مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”
ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ طاہر زمان کے لیے مناسب علاج تک رسائی طویل سفر اور مہینوں کی تکلیف کا سبب بنی۔ ان کے خاندان کے آٹھ افراد جلدی لشمانیا سے متاثر ہوئے۔
انہوں نے بتایا:
“ہمارے علاقے میں یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ جان لیوا بیماری نہیں، مگر علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ مختلف ڈاکٹروں کے چکر لگاتے ہوئے مہینے ضائع کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، میری والدہ اور بڑے بھائی کو کرک میں چھ سے سات ماہ تک اسپرے کے ذریعے علاج دیا گیا، مگر افاقے کے بجائے ان کی حالت مزید خراب ہو گئی۔ آخرکار ہم انہیں پشاور لے آئے جہاں صحیح علاج شروع ہوا۔”
اردو میں سالڈانہ یا کلدانہ کہلانے والی یہ بیماری لشمانیا کی سب سے عام قسم ہے، جو جلد پر زخم اور اکثر کھلے ناسور پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ یہ جان لیوا نہیں، تاہم اس کے نتیجے میں شدید داغ، بدشکلی، سماجی بدنامی، امتیازی سلوک اور طویل المدتی نفسیاتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالوھاب محمد نے مزید کہا:
“اگرچہ میگلومین اینٹی مونی ایٹ رجسٹرڈ ہے، مگر سرکاری صحت مراکز میں یہ شاذ و نادر ہی دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے باعث دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے مریض ایم ایس ایف کے مراکز کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں یا پھر نجی کلینکس سے علاج کرواتے ہیں، جہاں اخراجات اکثر ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں۔ تربیت یافتہ عملے کی کمی اور بیماری کے بڑھتے ہوئے کیسز پہلے سے محدود وسائل پر شدید دباؤ ڈالتے ہیں اور بروقت علاج میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔”
جلدی لشمانیا سے متعلق آگاہی کی کمی اور غیر معیاری یا غیر مؤثر علاج مریضوں کی حالت مزید بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں زخم بڑے ہو جاتے ہیں، داغ زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں اور سماجی تنہائی و بدنامی میں اضافہ ہوتا ہے۔ غیر مؤثر علاج ناکامی یا ادویات کے خلاف مزاحمت (Drug Resistance) کا سبب بھی بن سکتا ہے، جو خاص طور پر دیہی اور غریب آبادی کے لیے تکلیف کو مزید طول دیتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالوھاب محمد نے کہا:
“جلدی لشمانیا ایک نظرانداز شدہ بیماری ہے جو سب سے زیادہ غریب اور دور افتادہ علاقوں کو متاثر کرتی ہے۔ مؤثر علاج تک پائیدار رسائی کو یقینی بنانا تکلیف کم کرنے، معذوری سے بچاؤ اور متاثرہ افراد کو باوقار زندگی فراہم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔”
خیبر ضلع کی وادی تیراہ سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ مدثر احمد اس وقت پشاور کے گورنمنٹ نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال میں قائم ایم ایس ایف کے مرکز سے علاج حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا:
“میں چاہتا ہوں کہ اس بیماری کا علاج بھی دیگر بیماریوں کی طرح عام اور آسانی سے دستیاب ہو، تاکہ لوگوں کو مخصوص شہروں کا سفر نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں اس بیماری سے متعلق آگاہی بھی ضروری ہے تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور متاثر ہونے کی صورت میں بروقت اور درست علاج حاصل کریں۔”
میگلومین اینٹی مونی ایٹ تک رسائی کے علاوہ، مستقل سیاسی عزم، مضبوط نگرانی (سرویلنس) اور کمیونٹی کی سطح پر اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ بیماری کی منتقلی روکی جا سکے، بدشکلی سے بچاؤ ہو اور خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں سمیت متاثرہ افراد کو باوقار زندگی گزارنے میں مدد ملے۔
ایم ایس ایف 2008 سے پاکستان میں جلدی لشمانیا کی تشخیص اور علاج کی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ خدمات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ایم ایس ایف متبادل علاج کے امکانات پر تحقیق کر رہی ہے اور خیبر پختونخوا میں یونیورسٹی آف پشاور کے تعاون سے، جبکہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے لشمانیا ادویات پر تحقیق کو فروغ دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ایم ایس ایف وزارتِ صحت کے عملے اور دیگر طبی اداروں کو تربیت فراہم کر رہی ہے تاکہ تشخیص، علاج کے معیار اور طویل المدتی پائیداری کو بہتر بنایا جا سکے۔
سال 2025 میں ایم ایس ایف نے اپنے مراکز پر 11 ہزار سے زائد افراد کی اسکریننگ کی، جن میں سے 7 ہزار سے زیادہ مریضوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں علاج کا آغاز کیا۔
فی الوقت ایم ایس ایف مقامی صحت حکام کے تعاون سے جلدی لشمانیا کے چھ مراکز چلا رہی ہے۔
بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں تین مراکز:
کچلاک ہیلتھ سینٹر
محترمہ شہید بے نظیر بھٹو جنرل ہسپتال
بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال
خیبر پختونخوا میں تین مراکز:
گورنمنٹ نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال، پشاور
خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال، بنوں
ڈوگرہ ہسپتال، باڑہ، ضلع خیبر

