ضلع خیبر میں بگڑتی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس

ضلع خیبر میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور بالخصوص وادی تیراہ میں بدامنی، جبری نقل مکانی اور متاثرین کو درپیش مسائل پر عوامی نیشنل پارٹی ضلع خیبر کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس کے بعد متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے، جبکہ متاثرین کی بحالی اب صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر تیراہ میں امن و امان بحال کرکے متاثرین کی باعزت واپسی کے لیے واضح اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کرے۔ راجگال، سنڈاپال، درے نغری، باغ حرم، خاپور اور سرغر کے متاثرین کی جلد واپسی اور ان سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
کانفرنس میں متاثرین کی رجسٹریشن اور امدادی عمل میں مبینہ کرپشن، سیاسی مداخلت اور بے ضابطگیوں کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ اعلان کردہ مالی امداد اور ماہانہ 50 ہزار روپے کی ادائیگی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سویلین شہداء کے لیے خصوصی پیکج اور تمام متاثرہ خاندانوں کو آئی ڈی پیز کا درجہ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اعلامیہ میں تیراہ میں جنگلات کی کٹائی اور اراضی قبضوں کے خلاف کارروائی، جبکہ اپر باڑہ اور باڑہ میں بڑھتے جرائم اور اغوا برائے تاوان کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ سابقہ قبائلی اضلاع میں بدامنی کو حکومتی رٹ کے فقدان سے تعبیر کرتے ہوئے فوری اقدامات پر زور دیا گیا۔
کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے ظاہر شاہ آفریدی، جمعیت علماء اسلام کے سید کبیر آفریدی، جماعت اسلامی کے اول گل، پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر شیر شاہ آفریدی، پاکستان عوامی انقلابی لیگ کے ملک عطاءاللہ خان، پی ٹی ایم کے آفتاب شینواری، صحبت آفریدی، مقبلی خان، عجب خان، اصغر خان، شیر افغان اور ہاشم آفریدی نے شرکت کی، جبکہ ناصر خان آفریدی، سینا گل آفریدی ، گل غفور اور ایڈوکیٹ دانش آفریدی سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ اگر مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو تمام سیاسی جماعتیں ملک گیر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top